9 اگست، 2026، 5:06 AM

آبنائے ہرمز کھولنے کا عمان سے مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں، ایرانی پاسداران انقلاب

آبنائے ہرمز کھولنے کا عمان سے مذاکرات سے کوئی تعلق نہیں، ایرانی پاسداران انقلاب

سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے کہا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کی شرائط کو تسلیم کیے جانے اور علاقائی مذاکرات میں مداخلت ختم کرنے کے بعد ہی آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولا جائے گا۔

مہر خبررساں ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق، سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کے ترجمان بریگیڈیئر جنرل حسین محبی نے کہا ہے کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے کا معاملہ ایران اور عمان کے درمیان جاری مذاکرات سے مکمل طور پر الگ ہے اور اس کا فیصلہ ایران کے مخصوص قانونی و دفاعی طریقۂ کار اور مقررہ شرائط کی بنیاد پر کیا جائے گا۔

ایران کے جنوبی صوبے ہرمزگان میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے جنرل محبی نے آبنائے ہرمز کی صورتحال اور اسے دوبارہ کھولنے کے لیے ضروری شرائط پر روشنی ڈالی۔

انہوں نے آبنائے ہرمز کی تزویراتی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران کے لیے آبنائے ہرمز محض ایک اقتصادی گزرگاہ یا آبی راستہ نہیں بلکہ اس کی جغرافیائی سیاسی اور تزویراتی طاقت کا ایک اہم جزو ہے۔

سپاہ پاسداران کے ترجمان نے کہا کہ آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنا امریکہ کی جانب سے ایران کی شرائط کو مکمل طور پر قبول کرنے اور علاقائی مذاکرات میں مداخلت ختم کرنے سے مشروط ہے۔ جب امریکہ ایران کی شرائط کو تسلیم کر لے گا تو آبنائے ہرمز کو یقیناً دوبارہ کھول دیا جائے گا۔

انہوں نے مزید کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران کے تزویراتی حساب میں آبنائے ہرمز محض ایک اقتصادی راستہ نہیں بلکہ ملک کی اعلیٰ جغرافیائی سیاسی صلاحیت اور طاقت کی علامت ہے، جسے ایران کی دفاعی اور قومی خودمختاری کی پالیسیوں کے مطابق استعمال کیا جاتا ہے۔

انہوں نے خطے کے ممالک کے درمیان تعلقات میں امریکی رکاوٹ اور مداخلت کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ دشمن کو بحری آمدورفت کے راستے دوبارہ کھولنے کے لیے ایران کی قانونی اور منطقی شرائط کو مکمل طور پر تسلیم کرنا ہوگا۔

سپاہ پاسداران کے ترجمان نے مزید کہا کہ امریکہ کو ایران اور عمان یا خطے کے دیگر ممالک کے درمیان جاری مذاکرات میں مکمل طور پر مداخلت سے باز رہنا چاہیے۔

News ID 1940605

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
  • captcha